فری لانسنگ ہے کیا
اور اس پر کام کیسے کیا جاتا ہے
ٹیکنالوجی کی زبان میں فری لانسنگ سے مراد انٹرنیٹ پر کسی بھی ملک میں موجود ایک فرد یا کمپنی کے لیے کام کے عوض پیسے وصول کرنا ہے۔
فری لانسنگ پاکستان کے نوجوانوں میں تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ ایک اچھا انٹرنیٹ لیپ ٹاپ یا موبائیل موجود ہو تو آپ کہیں سے بھی فری لانسنگ کر سکتے ہیں۔
فری لانسنگ میں کرنے والے کام کیا کیا ہو سکتے ہیں
ویسے تو فری لانسنگ میں آپ ہر ممکن اور جائز کام کر سکتے ہیں۔ فری لانسنگ میں آپ ڈیٹا انٹری کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ لکھنے میں اچھے ہیں تو کسی کی ویب سائٹ، بلاگ یا فیشن پر تحریر لکھ سکتے ہیں۔
’سپریڈ شیٹس، ایم ایس ورڈ یا آفس سے متعلق کوئی کام، بنیادی گرافک ڈیزائنگ یا سوشل میڈیا پوسٹ بنانے کا کام اس وقت فری لانسنگ میں کافی چل رہا ہے۔
فری لانسنگ میں لوگ کچھ لکھنے یا بلاگ رائٹنگ کے علاوہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے مارکیٹنگ کا کام کر سکتے ہیں۔
اس وقت فری لانسنگ کی ڈیمانڈ جن شعبوں میں ہیں ان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی ہے۔ اس میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ایفلیٹ مارکیٹنگ آ جاتی ہیں۔
سافٹ ویئر اور ایپ بنانے کے کام کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی طلب ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے نوجوان اس قسم کے ہنر سیکھ سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے ان کے پاس ایک تبادل ذریعہ آمدن موجود ہو۔
کمپیوٹرز کی مدد سے لوگ ایسی صلاحیتیں سیکھ سکتے ہیں جن کی بدولت اب یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی ایک کمپنی یا ملک میں کام کریں۔
’ان چند سکلز (صلاحیتوں) میں گرافک ڈیزائن، ویب سائٹ بنانا، ایس ای او (سرچ انجن اوپٹیمائزیشن)، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا، ای کامرس اور تصانیف لکھنا شامل ہے۔
اس کے بنیادی ہنر سیکھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں کیونکہ فری لانسنگ کے لیے کچھ ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں آپ اپنا اکاؤنٹ بنا کر کام ڈھونڈ سکتے ہیں۔
جیسی Up work اور Fivers پاکستان میں اکثرلوگ
کئی ویب سائٹس پر کام تلاش کرتے ہیں۔ یہاں اپنی پروفائل بنانے کے بعد لوگوں کی جانب سے فراہم کردہ ضروریات پر پورا اترنا ہوتا ہے۔
کام مکمل ہونے پر یہ ویب سائٹس کام دینے والے سے پیسے وصول کرتی ہے، اپنی کٹوتی کرتی ہے اور کام کرنے والے کو پیسے ادا کر دیتی ہے۔
ایک زمانے میں کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا تھا۔ پہلے پڑھائی کے بعد لوگ نوکریاں تلاش کرتے تھے۔
اب یہ بدلتا جا رہا ہے اور لوگوں کو جسمانی طور پر کسی دفتر میں موجود ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ عدم موجودگی میں کمپیوٹر کے ذریعے کام کر سکتے ہیں
2018 کی ایک رپورٹ میں ورلڈ بینک اور فری لانسنگ کی ویب سائٹس کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں 60 ہزار سے زیادہ فری لانسرز موجود ہیں۔ تاہم یہ محظ ایک محتاط اندازا ہے۔
اس کے بعد 2019 کی ایک رپورٹ میں پاکستان کی فری لانسنگ مارکیٹ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ دی گلوبل گِگ اکنامی انڈیکس کے نتائج کے مطابق پاکستان میں فری لانسنگ کی آمدنی میں 2018 کے مقابلے 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔
اور پاکستان میں فری لانسنگ کی مدد سے پیسے کمانے والوں میں اضافہ ہوا ۔
اس صنعت میں نمایاں ترقی کی بدولت دنیا کے 10 بڑے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر آیا تھا۔ اس فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر تھا جبکہ انڈیا ساتویں اور بنگلہ دیش آٹھویں نمبر پر تھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فری لانسنرز میں اضافے کی ایک وجہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے۔
’پاکستان میں 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے تعلیم کے فروغ نے پاکستان کے نوجوانوں کو گِگ اکانمی میں حصہ لینے میں مدد کی ہے۔
فری لانسنگ میں کتنے پیسے کمائے جا سکتے ہیں؟
لوگ فری لانسنگ میں کتنے پیسے کما سکتے ہیں، اس کا انحصار ایک شخص کی صلاحیت، ہنر مندی، کام کی نوعیت اور وقت کے دورانیے پر ہوتا ہے۔
جب کام کے عوض پیسے ڈالرز میں ملتے ہیں تو اس کی قدر کافی زیادہ ہوتی ہے۔‘
فری لانسنگ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ روپے میں نہیں بلکہ ڈالر میں پیسے ملیں گی۔۔۔ جب لوگ باہر سے پیسے کماتے ہیں تو اس سے انفرادی اور ملکی فائدہ ہوتا ہے۔'
مختلف ویب سائٹس پر ایک کام کے لیے چند ڈالرز سے ریٹ بڑھتا بڑھتا ہزاروں ڈالرز تک بھی جا سکتا ہے۔
کیا انٹرنیٹ پر پیسے کمانا اتنا ہی آسان ہے؟
پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگ اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے انٹرنیٹ پر پیسے کمانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص فوراً اس میں کامیاب ہوجائے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ وقت پر معیاری کام کریں تاکہ اپنی اچھی پروفائل بنا سکیں۔
Conclusion
اچھے فری لانسر کے اندر صلاحیتیں ہونے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہ سب سے منفرد کام پیش کریں اور وقت کی پابندی کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انٹرنیٹ پر ان کی پروفائل مضبوط ہو جائے گی اور مختلف کلائنٹس ان سے بار بار کام کرواہیں گی جو کہ پیسے کمانے کا ایک مستقل ذریعہ بن جائے گا۔
پاکستان میں بیرون ممالک سے پیسوں کی ادائیگی کے بھی کچھ مسائل موجود ہیں
کیونکہ پے پال کی سروس ملک میں تاحال متعارف نہیں کرائی گئی۔تاہم متبادل زرائع موجود ہیں
